Pages

Monday, July 18, 2022

🥀 _*ســـیرت النبیﷺ*_ 🥀(Seerat Un Nabi)


🥀 _*ســـیرت النبیﷺ*_ 🥀



*قسط نمبر63*

*آپﷺ کی عائلی (خانگی) زندگی*
کسی بھی انسان کے اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش کی جگہ خود اس کا گھر ہے گھر کے لوگوں سے صبح و شام اور شب و روز کا سابقہ پڑتا ہے گھر کے ماحول میں انسان اپنا حقیقی مزاج چُھپا نہیں سکتا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا
تم میں سب سے بہتر اخلاق اس کے ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر اخلاق رکھتا ہو
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خارجی زندگی کی ذمہ داریاں اتنی متنوع اور وسیع تر تھیں کہ ان کے ساتھ اپنے اہل خانہ اور افراد خاندان کے لیے وقت نکالنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا آج کے زمانہ کو دیکھتے ہوئے ایک مشکل ترین بات تھی لیکن حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات کُھل کر سامنے آتی ہے کہ ازواج مطہرات ہوں یا اولاد خدام ہوں یا اقربا متعلقین ہوں یا احباب، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر ایک کے حقوق کی رعایت فرماتے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ اس سے غافل نظر نہیں آتے ہر آن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان کے حقوق کی فکر دامن گیر رہتی ایسا بھی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے ماتحت افراد کے لیے تندخو اور سخت گیر سرپرست کی حیثیت رکھتے ہوں بلکہ بیویوں کے حق میں ایک محبت کرنے والے شوہر اولاد کے حق میں ایک شفیق و مہربان باپ اور خدام کے حق میں ایک فراخ چشم اور حلیم و بردبار آقا کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تصویر ابھرتی ہے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جملہ گیارہ شادیاں کیں اور بیک وقت نو بیویاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا معمول تھا کہ جب مدینہ میں ہوتے تو عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج کے پاس جاتے اور ہر ایک کی ضرورت معلوم کرتے اور اس کی تکمیل فرماتے، ازواج کے مابین شب باشی کی باری متعین ہوتی، گو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اس کی پابندی شرعاً لازم نہیں تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہ طور خود پوری سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتے۔ ایک مرتبہ کسی بات پر حضور اقدسﷺ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے.حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور کہا آپ جانتی ہیں کہ میں اپنی باری کسی چیز کے معاوضے میں نہیں دے سکتی. لیکن اگر آپ سرورﷺ کو مجھ سے راضی کر دیں تو میں اپنی باری کا دن آپ کو دے سکتی ہوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئیں آپﷺ نے فرمایا عائشہ (رضی اللہ عنہا) تمہاری باری کا دن نہیں وہ بولیں یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے پھر تمام واقعہ حضورﷺ سے کہہ سُنایا حضورﷺ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے ازواج کے مابین انصاف کا خیال اور اس سلسلہ میں عند اللہ جواب دہی کا احساس اتنا شدید تھا کہ اللہ رب العزت سے دُعا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا معمول تھا کہ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو ساتھ لے جاتے
آپ کی عائلی زندگی بھی اسلام کے اس مزاج و مذاق کی آئینہ دار ہے ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عیدالفطر کے موقع پر چند حبشی نوجوان نیزوں سے کھیل رہے تھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے دیکھنے کی خواہش کی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مونڈھے اور گردن کے درمیان سے میں کھیل دیکھتی رہی
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے اور پانی لینے میں چھینا جھپٹی بھی ہوتی کبھی دوڑ کا مقابلہ بھی ہوتا ایک مرتبہ دوڑ کا مقابلہ ہوا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دبلی پتلی تھیں آگے بڑھ گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیچھے رہ گئے پھر کچھ زمانے کے بعد یہی مقابلہ ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سبقت حاصل کی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہو گیا
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو آپ پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے حضرت اسود سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گھر میں آ کر کیا کرتے تھے؟ 
انھوں نے فرمایا اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کا کام بھی کرتے تھے مثلاً بکری کا دودھ دوھ لینا اپنے نعلین مبارک سی لینا
(زاد المعاد)
گھر میں جو کھانا تیار ہوتا حاضر کر دیا جاتا آپ کی مرغوب اور پسندیدہ شئی ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ خاموشی اختیار کرتے لیکن کھانے میں کوئی عیب نہیں لگاتے دن کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے رات میں عشاء کی نماز کے بعد غیرضروری جاگنے کو بالکل ناپسند کرتے آپ کا بستر بالکل معمولی ہوتا بسا اوقات چمڑے کا بستر ہوتا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی اور کبھی چمڑا ہوتا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسی پر آرام فرماتے
آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی راستہ میں بچے کھیلتے ہوئے مل جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کو سلام کرتے گھر میں بچوں کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتے ان کو کاندھے پر بٹھاتے گود میں لیتے پیار کرتے چومتے معلوم ہوا کہ مزاج میں اتنی سختی نہ ہونی چاہیے کہ بچے دیکھتے ہی سہم جائیں اور چُھپنے لگیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کسی ضرورت سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملاقات ہوئی میں نے محسوس کیا آپ کچھ اٹھائے ہوئے ہیں میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تھیلی کھولی اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما اور اس شخص سے بھی جو ان دونوں سے محبت رکھے
خادموں کے ساتھ شب و روز اور ہر وقت کا ساتھ ہوتا ہے، کوتاہی لغزش بُھول چوک انسانی فطرت ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دس سال خدمت کی لیکن کبھی اُف تک آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور جس کام کو میں نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ تونے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ دس سال کی رفاقت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کبھی *اُف* تک نہیں کہا یہ تحمل و بردباری اور شفقت کی ایک مثال ہے
ایک کامل اور مکمل انسانی زندگی کی بنیادی شناخت یہ ہے کہ دُنیا میں چھوٹے بڑے حاکم و محکوم، دوست و دشمن اپنے اور پرائے امیر وغریب ہرسطح اور ہرطبقہ کے لوگوں سے جہاں اس کے تعلقات روشنی میں ہوں اور لوگوں کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتے ہوں وہیں اپنی ازواج خدام اولاد متعلقین اور اقرباء و رشتہ داروں میں بھی وہ محبوب و مقبول ہوں اور ان کے ساتھ تعلق و سلوک کے باب میں بھی اس کی زندگی اسوہ اور مثال ہو اس طور پر دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی زندگی اپنی مثال آپ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عائلی زندگی کا جو نقشہ بنایا اور خود اس پر عمل کرکے دکھایا حقیقت یہ ہے کہ وہ عائلی اور ازدواجی زندگی کے لیے بہترین نمونہ اور ہرطرح کی بے سکونی کا علاج اور اکسیر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ کے آئینہ میں ہم اپنی گھریلو زندگی کی صحیح صورت گری کرسکتے ہیں

*رسول اللہﷺ کی سماجی زندگی*
حیات طیبہ کی جمال وجلال آفریں روشنی اور ضیاء بار کرنیں انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر یکساں پڑتی ہے سیاسی زندگی ہو یا معاشی زندگی انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی سماجی زندگی ہو یا زندگی کا کوئی اور ایسا پہلو اور پھر زندگی کے کسی بھی شعبہ کا کوئی بھی مرحلہ درپیش ہو سیرت طیبہ کے بحر بیکراں میں اس کی ہدایت و رہنمائی کی در نایاب موجود ملتے ہیں، اس لیے کہنے والے نے دُرست کہا ہے
انسانی زندگی اپنے حقیقی روپ میں سماج کے اندر ہی جلوہ فگن ہوتی ہے رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی پاکیزہ زندگی انسانی سماج کے لیے بیش بہا متاع گراں مایہ ہے بہتر انسانی سماج کی تشکیل اور ہر فرد سماج کی فلاح و بہبود حیات طیبہ کی وہ عطر بیزی ہے جس کی خوشگوار بھینی بھینی خوشبوؤں سے انسانی چمن بارہا معطر ہوتا رہتا ہے
سماج افراد سے وجود میں آتا ہے اور افراد کی جان عزت اور مال و آبرو کا تحفظ اس کے وجود و بقاء کے لیے لازم ہوتا ہے، رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ نے انسانی جان کو اتنا محترم اور قیمتی بنایا کہ ناحق کسی انسان کی جان لینے کو نہ صرف بہت بڑا گناہ بتایا بلکہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا اور اس دروازے کو سختی سے بند کرنے کا مضبوط نظام قائم فرمایا عزت و آبرو اور دوسرے کے مال پر کسی قسم کی دست درازی کو سخت تعزیری جُرم قرار دے کر ہر فرد کی عزت اور مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم فرمائی
رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی سماجی زندگی ایک بہترین اور مکمل انسان کی زندگی ہے جس کے اخلاق فاضلہ کی روشنی سے ہر دور کے انسانی سماج کو منور کیا جاسکتاہے رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں کامل ایمان اس کاہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان حسن اخلاق سے وہ درجہ پاسکتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے اور رات بھر نماز پڑھنے سے ملتا ہے اخلاق کو اتنی اہمیت اس لیے دی گئی کہ انسانی سماج کی بہتر تشکیل اخلاقی خوبیوں کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے خود آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ اخلاق کے بلند مقام پر تھی قرآن نے کہا *اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ* بے شک آپ اخلاق کے بڑے درجے پر ہیں
مساوات و برابری اور عدل و انصاف بہتر انسانی سماج کی تشکیل کےلیے ضروری ہیں۔ رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ میں مساوات اور انصاف کی روشن مثالیں ملتی ہیں ایک مرتبہ قریش کی ایک خاتون چوری کے جُرم میں پکڑی گئی بعض عزیز ترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی نہ سُنی اور فرمایا تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں معمولی لوگ گناہ کرتے تھے تو ان کو سزا دی جاتی تھی اور جب بڑے لوگ کرتے تو ان کا جُرم نظر انداز کر دیا جاتا تھا
مظلوموں کو مدد اور محتاجوں کی اعانت آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کا شیوہ رہا ہے مکہ مکرمہ کی زندگی میں جب ایک مظلوم نے مدد کے لیے خانہٴ کعبہ کے پاس فریاد کی تو اس کی مدد کے لیے چند دیگر افراد کے ساتھ رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم بھی کھڑے ہوئے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں انھوں نے باہم مشورہ کر کے ایک جماعت بنائی اور یہ عہد کیا کہ مکہ میں جس شخص پر بھی ظلم کیا جائے گا ہم سب اس مظلوم کی مدد کریں گے یہ معاہدہ تاریخ میں *حَلَفُ الْفُضُول* کے نام سے سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنا اور مظلوم کو اس کاحق دلانا رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ مدنی زندگی میں بھی ایک بار آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے آج بھی حلف الفضول میں بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا
سماج کے کمزور افراد کی خبرگیری اور مدد آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ کی روشن مثالیں ہیں ایک صحابی حضرت خباب رضی اللہ عنہ کسی لشکر میں گئے ہوئے تھے ان کے گھر میں کوئی دوسرا مرد نہ تھا اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم روزانہ ان کے گھر جا کر دودھ دوہ آتے تھے دوسروں کے کام کر دینا آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ ایک دفعہ نماز کے لیے جماعت کھڑی ہو چکی تھی اسی دوران ایک بدو نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دامن پکڑ کر کہا میرا تھوڑا سا کام رہ گیا ہے آپ پہلے اسے کر دیجئے آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم چُپ چاپ اس کے ساتھ ہو لیے اور اس کا کام پورا کرنے کے بعد نماز کے لیے تشریف لائے
مکہ میں ایک بار قحط پڑ گیا اہل مکہ جو مسلمانان مدینہ کے جانی دشمن بنے ہوئے تھے رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے ساتھ انسانی حسن سلوک کا اعلیٰ نمونہ قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کی غربت و تنگدستی کے عالم میں بھی پانچ سو دینار جمع کر کے سرداران مکہ کو بھیجے کہ وہ قحط کے شکار لوگوں کی مدد کر سکیں
رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم کی زندگی پرنظر ڈالی جائے تو وہ ایک عام انسان کی طرح روزمرہ کے کاموں اور ہر دُکھ درد میں شریک نظر آتے ہیں کوئی دعوت دیتا تو فوراً قبول کر لیتے تھے سماجی تعاون اور خوشی و غمی میں شرکت کے لیے کوئی مذہبی رکاوٹ آپ کی راہ میں حائل نہیں تھی ایک یہودی خاتون کی دعوت آپ نے قبول فرمائی، اور اس کا کھانا کھایا اسی طرح ایک یہودی لڑکا بیمار ہوا تو آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم اس کی مزاج پُرسی کے لیے تشریف لے گئے، ایک بار نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا تو آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے خود مہمانداری کی اور وفد کے اراکین کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا حق و انصاف کے معاملہ میں بلا تفریق مذہب ہر انسان آپ کی نظر میں برابر تھا اگر کبھی اختلاف ہوتا تو ناحق کسی مسلمان کا ساتھ نہیں دیتے تھے
آج جب کہ دُنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے اور اس گاؤں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے پڑوسی کی طرح رہنے لگے ہیں، سماجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے کے آداب انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک سماج کے لوگوں کے درمیان پُرامن بقائے باہم اور خوشگوار زندگی کا سب سے بہتر نمونہ اور اصول میثاق مدینہ کے نام سے ہمارے سامنے موجود ہے رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم جب مدینہ آئے تو وہاں کے مختلف قبائل اور اہل مذاہب کے ساتھ آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے معاہدہ فرمایا یہی معاہدہ میثاق مدینہ ہے اس کی دفعات کتنی مدبرانہ اور معقول ہیں، اس کا اندازہ ان کے الفاظ سے کیا جا سکتا ہے
۱: سب لوگ ایک ہی قوم کے فرد سمجھے جائیں گے یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم ہے اور دونوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہو گی
۲: اگرمعاہدہ کرنے والے کسی قبیلہ پر کوئی دشمن حملہ آوار ہوگا تو تمام قبیلے مل کر اس کا مقابلہ کریں گے
۳: شریک معاہدہ قبیلوں کے تعلقات خیرخواہی نفع رسانی اور نیک اطواری پر مبنی ہوں گے تاکہ جبر پر اور خلاف اخلاق امور میں کوئی اعانت نہیں کی جائے گی
۴: یہودیوں اور مسلمانوں کو برابر حقوق حاصل ہوں گے
۵: مظلوم کی ہر حال میں مدد کی جائے گی وغیرہ
میثاق مدینہ کی ان دفعات نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ایک مشترک سماج کی تشکیل کا اصول فراہم کیا ہے اور ان خطوط پر آج کے کثیر مذہبی کثیر تہذیبی اور کثیرلسانی سماج کی تشکیل کی جاسکتی ہے
مسجد نبوی میں ایک جانب ایک بدوی نے آ کر پیشاب کر دیا، تو آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک بالٹی پانی منگوا کر اس کو صاف کر دیا دیوار پر کسی نے تھوک دیا تو اسے کھرچ کر اس کی جگہ خوشبو لگا دی، غذائی سامانوں میں جن چیزوں کو کھانے سے منع کیا گیا اس کی بنیاد اسی بات پر تو رکھی گئی ہے کہ وہ خبیث و گندگی ہیں اور انسانی جسم و صحت کے لیے مضر ہیں۔ قرآن میں ہے *ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث* یعنی لوگوں کے لیے اچھی و طیب چیزوں کو حلال اور گندی اور خراب چیزوں کو حرام قرار دیا شہری زندگی کے نوع بہ نوع سماجی مسائل اور ماحولیات سے متعلق سوالات کا بہترین حل اور جواب ہمیں کہیں مثالوں کی صورت میں اور کبھی اصولوں کی شکل میں رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم کی حیات طیبہ میں جگہ جگہ نظر آتا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں
اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے رب کے سامنے جواب دہی کے احساس کو محرک بنایا گیا ہے ارشاد ہوا کہ تم میں ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی مفوضہ ذمہ داریوں اور اس کے ماتحتوں کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔ احساس ذمہ داری اور احساس جوابدہی کا یہ تصور رشوت کے دروازے کو بند کر دیتا ہے سماجی زندگی میں آج کچھ سماجی لعنتیں گُھس گئی ہیں جس میں خواندگی زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل میں طلاق کی بڑھتی شرح اور جہیز کی مانگ سر فہرست ہیں
سماج میں باہمی اعتماد تعاون اور باہمی محبت کا فروغ سماج کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے ایسی مضبوطی کے لیے رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم نے خاصا اہتمام فرمایا ہے بڑی تفصیل کے ساتھ ہدایت دی گئی ہے کہ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی بُرائی نہ کی جائے کسی کی ٹوہ اور تجسس میں نہ پڑا جائے کسی کو مدد کے موقع پر بے یارو مددگار نہ چھوڑا جائے کسی کو بُرے نام اور بُرے لقب سے نہ پکارا جائے، کسی کے بارے میں بدگمانی نہ رکھی جائے ہر انسان سے محبت کی جائے اس کے تئیں حسن ظن رکھا جائے باہمی محبت کو بڑھاوا دینے کا بہترین نسخہ ہے آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بتایا کہ ایک دوسرے کو تحفے تحائف دئیے جائیں، سلام کو رواج دیا جائے اس سے محبت بڑھتی ہے باہمی مدد اور تعاون کا درجہ اتنا اونچا کیاگیا کہ فرمایا جب تک انسان اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس انسان کی مدد کرتا رہتا ہے

*عہدِ نبویﷺ کا شہری نظام
مدینہ منورہ کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق و شام کی سرحدوں سے لے کر جنوب میں یمن و حضر موت تک اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور علمی طور سے پورے جزیزہ نمائے عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہو گئی
اگرچہ شروع میں اسلامی ریاست کا نظم و نسق عرب قبائلی روایات پر قائم و استوار تھا تا ہم جلد ہی وہ ایک ملک گیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگئی یہ عربوں کے لیے ایک بالکل نیا سیاسی تجربہ تھا کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے یہ سیاسی اکائیاں آزاد و خود مختار ہوتی تھیں جو ایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبردار تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجہ میں مسلسل سیاسی چپقلش فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہ دار تھیں عربوں میں ناصرف مرکزیت کافقدان تھا بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی عاری تھے کہ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے وہ کسی غیر کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے یہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ والہ وسلم کا سیاسی معجزہ ہے کہ آپ صلى اللہ وسلم نے دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی ان گنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی جس کی اطاعت بدوی اور شہری تمام عرب باشندے کرتے تھے اس کا سب سے بڑا بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب قبیلہ یا خون کے بجائے اسلام یا دین معاشرہ و حکومت کی اساس تھا اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیا لوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا، جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کے لیے بھی بعض اسباب سے اس ریاست کی سیاسی بالادستی تسلیم کرنی ضروری تھی
ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے وہ لکھتے ہیں 
مدینہ میں ابھی نِراج کی کیفیت تھی اور قبائلی دور دورہ تھا عرب اوس اور خزرج کے بارہ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور یہود بنو نضیر و بنو قریظہ وغیرہ کے دس قبائل میں تھے، ان میں باہم کئی کئی نسلوں سے لڑائی جھگڑے چلے آ رہے تھے اور کچھ عرب کچھ یہودیوں کے ساتھ حلیف ہوکر باقی عربوں اور ان کے حلیف یہودیوں کے حریف بنے ہوئے تھے ان میں مسلسل جنگوں سے اب دونوں تنگ آ چکے تھے اور وہاں کے کچھ لوگ غیر قبائل خاص کر قریش کی جنگی امداد کی تلاش میں تھے لیکن شہر میں امن پسند طبقات کو غلبہ ہورہا تھا اور ایک بڑی جماعت اس بات کی تیاری کررہی تھی کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کو بادشاہ بنا دیں حتی کہ بخاری اور ابن ہشام وغیرہ کے مطابق اس کے تاجِ شہر یاری کی تیاری بھی کاریگروں کے سُپرد ہو چکی تھی بلاشبہ حضور صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے بیعت عقبہ میں بارہ قبائل میں بارہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے نقیب مقرر کر کے مرکزیت پیدا کرنے کی کوشش فرمائی تھی مگر اس سے قطع نظر وہاں کے ہر قبیلے کا الگ راج تھا اور وہ اپنے اپنے سائبان میں اپنے معاملات طے کیا کرتا تھا کوئی مرکزی شہری نظام نہ تھا، تربیت یافتہ مبلغوں کی کوششوں سے تین سال کے اندر شہر میں کچھ لوگ مسلمان ہو چکے تھے مگر مذہب ابھی تک خانگی ادارہ تھا اس کی سیاسی حیثیت وہاں کچھ نہ تھی اور ایک ہی گھر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے تھے ان حالات میں حضور صلى اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ آتے ہیں جہاں اس وقت اور متعدد فوری ضرورتیں تھیں 
۱: اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق و فرائض کا تعین
۲: مہاجرینِ مکہ کے قیام اور گزر بسر کا انتظام 
۳: شہر کے غیر مسلم عربوں اور خاص کر یہودیوں سے سمجھوتہ 
۴ : شہر کی سیاسی تنظیم اور فوجی مدافعت کا اہتمام 
۵: قریشِ مکہ سے مہاجرین کو پہنچے ہوئے جانی و مالی نقصانات کا بدلہ
ان ہی اغراض کے مدنظر حضور صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے ہجرت کر کے مدینہ آنے کے چند مہینہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب فرمائی جسے اسی دستاویز میں کتاب و صحیفہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے جس کے معنی دستور العمل اور فرائض نامہ کے ہیں اصل میں یہ شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری ملکیت قرار دینا اور اس کے انتظام کا دستور مرتب کرنا تھا (ڈاکٹر حمید اللہ کی بہترین تحریریں مرتب قاسم محمود،ص :۲۵۳)

اس میثاق کے بنیادی نکات یہ تھے
۱: آبادیوں میں امن و امامن قائم رہے گا تاکہ سکون سے نئی نسل کی تربیت کی جا سکے
۲: مذہب اور معاش کی آزادی ہو گی
۳: فتنہ و فساد کو قوت سے ختم کیا جائے گا
۴: بیرونی حملوں کا مل کر مقابلہ کیاجائے گا
۵: حضورِ اکرمﷺ کی اجازت کے بغیر کوئی جنگ کے لیے نہیں نکلے گا
۶: میثاق کے احکام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو تو اللہ کے رسولﷺ سے رجوع کیا جائے گا
اس معاہدے میں مسلمانوں یہودیوں اور مختلف قبیلوں کے لیے الگ الگ دفعات مرقوم ہیں یہ اصل میں مدینہ کی شہری مملکت کے نظم و نسق کا ابتدائی ڈھانچہ تھا یہاں واضح طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ حضور اکرم صلى اللہ وسلم یونان کی شہری ریاستوں کی طرح کوئی محدود ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک عالمگیر مملکت کی بنیاد ڈالی تھی جو مدینہ کی چند گلیوں سے شروع ہوئی اور روزانہ ۹۰۰ کلومیٹر کی رفتار سے پھیلتی رہی اس وقت دس لاکھ مربع میل کی مملکت تھی جب اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے دُنیا سے پردہ فرمایا
(محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم : ڈاکٹر حمید اللہ )
اس عالمگیر مملکت کے تصور کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھایا اور سو برس کے اندر اندر یہ تین براعظموں میں پھیل گئی ۔
اس میثاق یعنی صحیفہ میں بلدیاتی نظام کے تعلق سے حسب ذیل امور سامنے آتے ہیں :

۱: امن و امان کاقیام 
۲: تعلیم و تربیت کی سہولتیں
۳: روزگار سکونت اور ضروریات زندگی کی فراہمی

*حضورﷺ اور شہری منصوبہ بندی*
ہجرت کے حکم کے بعد مدینہ میں مہاجرین کا سیلاب امڈ پڑا تھا اور آخر کار مدینہ میں مقامی باشندوں کے مقابلہ میں مہاجرین کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی
(صحیح بخاری ) 
ان نو واردوں کی آباد کاری کے متعلق حضور پاک صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے شروع دن ہی سے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا تھا اس منصوبہ کی جزئیات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نو آبادی (کالو نائزیشن )اور شہری منصوبہ بندی (ٹاوٴن پلاننگ ) میں عظیم انقلاب برپا کر دیا تھا نئے بسنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کو اتنے محدود وسائل میں رہائش اور کام کی فراہمی کوئی آسان معاملہ نہ تھا پھر مختلف نسلوں طبقوں علاقوں اور مختلف معاشرتی و تمدنی پس منظر رکھنے والے لوگ مدینہ میں آ آ کر جمع ہو رہے تھے، ان سب کو سماجی لحاظ سے اس طرح جذب کر لینا کہ نہ ان میں غریب الدیاری اور بیگانگی کا احساس ابھرے نہ مدینہ کے ماحول میں کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ قانون شکنی اور اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات جنم لیں جیسا کہ عام طور پر ایسے حالات میں ہوتا ہے
رسول کریم صلى اللہ علیہ والہ وسلم کا ایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے جو ماہرینِ عمرانیات کے لیے خاص توجہ اور مطالعہ کا مستحق ہے جدید شہروں میں آبادی کے دباوٴ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ تمدنی سیاسی اور اخلاقی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیرت النبی صلى اللہ علیہ والہ وسلم سے ماہرین آج بھی بلاشبہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
دُنیا کو سب سے پہلے رسالت مآب صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے اس راز سے آگاہ کیا کہ محض سنگ و خِشت کی عمارات کے درمیان میں کوچہ و بازار بنا دینے کا نام شہری منصوبہ نہیں، بلکہ ایسا ہم آہنگ اور صحت مند تمدنی ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے جو جسمانی آسودگی روحانی بالیدگی دینی اطمینان اور قلبی سکون عطا کرکے اعلیٰ انسانی اقدار کو جنم دے اور تہذیبِ انسانی کے نشو ونما کاسبب بنے
مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد دار الخلافہ کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب اور اس غرض کے لیے وسیع قطعہ اراضی پہلے ہی حاصل کرلیا گیاتھا مسجد اور ازواجِ مطہرات کے لیے مکانات بن جانے کے ساتھ دار الخلافہ کی تعمیر کا پہلا مرحلہ تکمیل کو پہنچا دوسرے مرحلہ کا آغاز نو وارد مہاجرین کی اقامت اور سکونت کے مختصر مکانات (کوارٹرز) کی تعمیر سے کیا گیا یہی وجہ تھی کہ تعمیرات کے اس دو مرحلے ومنصوبے پر ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ لگ گیا مدینة الرسول ایک لحاظ سے مہاجر بستی تھی گوسارے مہاجر وہاں اقامت نہ رکھتے تھے (طبقات ابن سعد ) ہو سکتا ہے جب مدینہ کی آبادی بڑھی ہو تو مکانات اور تعمیرات کاسلسلہ پھیل کر عہدِ رسالت مآبﷺ ہی میں قریب کی آبادیوں بنی ساعدہ، بنی النجار وغیرہ سے مل گیا ہو ورنہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ مدینہ کی کالونی میں صرف مہاجرین کو بسایا جائے عوالی میں رہنے والے بنو سلمہ نے جب مدینہ آ کر آباد ہونے کی درخواست کی تو آپ نے اسے نا منظور کر دیا اور انھیں اپنے قریہ ہی میں رہنے کی ہدایت کی، ریاست کی نو آبادی اسکیم کا یہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ کر مدینہ آنے والے لٹے پٹے بے سروسامان اور بے یارو مدد گار مہاجروں کے قافلوں کو جائے رہائش سرکاری طور پر فراہم کی جائے بلکہ ان نو واردوں کو سرکاری مہمان خانہ میں ٹھہرایا جاتا اور ان کے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظام بھی سرکاری طور پر کیا جاتا بعد میں ان لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے جگہ یامکان مہیا کرنا بھی حکومت کا فرض تھا گویا مہاجرین کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی اسلامی حکومت کی ذمہ داری تھی
مہاجرین کی عارضی رہائش کا انتظام مسجد کے اندر کیمپ لگا کر یا صفہ میں کیا جاتا اگر مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوتی یا قافلہ پورے قبیلہ پر مشتمل ہوتا تو انھیں عموماً شہر کے باہر خیموں میں ٹھہرایا جاتا تا آں کہ مستقل رہائش کا معقول انتظام نہ ہو جاتا آباد کاری کے دو طریقے اختیار کیے گئے اولاً یا تو کسی ذی ثروت انصاری مسلمان کو کہہ دیا جاتا کہ وہ ایک مہاجر کی رہائش کا اپنے ہاں انتظام کر لیں، مگر خیال رہے کہ صرف شروع کے ایام میں ایسا کیا گیا، جبکہ اسلامی ریاست صحیح طرح صورت پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی منظم تھی
مہاجروں کو ٹھہرانے کے لیے عموماً بڑے بڑے مکانات تعمیر کیے گئے تھے یہ مکانات کئی کمروں پر مشتمل تھے ایک کمرہ ایک خاندان کو دیا جاتا البتہ ایسے مکانات میں باورچی خانہ وغیرہ مشترکہ ہوتا اندازہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے مدینہ کی کالونی میں سرکاری طور پر علیٰحدہ رہائش کے لیے جو مکانات بنوائے وہ تین کمروں کے تھے
(ماخوذ از ادب المفرد :امام بخاری )
عہد نبویﷺ کے اواخر میں مدینہ کا شہر مغرب میں بطحا تک مشرق میں بقیع الغرقد تک، اور شمال مشرق میں بنی ساعدہ کے مکانات تک پھیل چکا تھا رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم نے اب وہاں مزید مکانات تعمیر کرنے سے رُوک دیا، شہری منصوبہ بندی کے ضمن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ اقدام زبردست اہمیت کا حامل ہے اس کی اہمیت کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں، جنھیں جدید صنعتی شہروں کے اخلاق باختہ اور انتشار انگیز معاشرہ کا قریبی مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہو آپﷺ نے شہرِ نو (مدینہ) کو ایک خاص حد سے متجاوز نہ ہونے دیا اور اس شہر کی زیادہ سے زیادہ حد (۵۰۰) پانچ سو ہاتھ مقرر کی اور فرمایا کہ شہر کی آبادی اس حد سے بڑ ھ جائے تو نیا شہر بسائیں اور آپﷺ نے اپنی زندگی میں بھی اس اصول پر عمل کرتے ہوئے دو اقدام کیے ایک یہ کہ اضافی آبادی کو یا تو اور زمینوں میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس طرح ایک طرف زرعی انقلاب برپا کیا جاسکے اور دوسری طرف نئے لوگوں کی رہائش کے لیے گنجائش نکالی جا سکے دوسری طرف یہ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی مفتوحہ بستیوں یا جوف مدینہ کے دیگر قریوں میں پھیلا دیا، تاکہ ایک جانب معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں اور دوسری طرف صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرہ تخلیق کیا جا سکے اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ رسالت مآبﷺ نے اپنے مقاصد میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی 
(نسائی، کتاب الصلاة )
آج کل کچھ مغربی ممالک میں ٹاؤن پلاننگ کے انھیں زریں اصولوں پر جنہیں رسول اللہ صلى اللہ عليہ والہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے آزمایا تھا عمل کر کے معاشرتی ہیجان اور تہذیبی انتشار کی شدت کو کم کرنے میں ایک حد تک کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں

*مدینہ کی شہری ریاست*
موجودہ دور میں شہری حکومت کے مقاصد کچھ اس طرح ہوتے ہیں
۱: شہر کی گلیوں اور شاہراہوں کا بندوبست مارکیٹوں کی تعمیر رہائشی انتظامات۔
۲: پینے کے پانی کی فراہمی اور تقسیم 
۳: گندے پانی کی نکاسی کوڑے کرکٹ کے پھینکوانے کا بندوبست 
۴: تعلیم علاج دیگر فلاحی اداروں کھیل کے میدانوں کا قیام 
۵: چمن بندی اور شہر کی خوبصورتی اور تفریح گاہوں کا انتظام 
۶: ان کاموں کے لیے مالی وسائل اور کاموں کا احتساب
حضور پاک صلى اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث سے ہمیں بلدیاتی نظام کے بہت سے اصول ملتے ہیں جہاں تک محکمۂ احتساب کا تعلق ہے فارابی ماوردی اور طوسی اسی کی موافقت میں ہیں ماوردی نے محکمۂ احتساب کی خصوصیات کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ محکمۂ انصاف اور محکمۂ پولیس کے درمیان ایک محکمہ ہے محتسب کا فریضہ یہ ہے کہ اچھے کام جاری کرے اور بُرے کاموں کو رُوکے
بلدیاتی نظام میں سب سے اہم سڑکوں پلوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے علاوہ نئی شاہراہوں کی تعمیر اور آئندہ کے لیے ان کی منصوبہ بندی کا کام ہوتاہے بعض لوگ ذاتی اغراض کے لیے سڑکوں کو گھیر لیتے ہیں بعض مستقل طور پر دیواریں کھڑ ی کر لیتے ہیں فقہِ اسلامی میں اس کے بارے میں واضح احکام ملتے ہیں صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہو گی اس سے کم گلی بھی نہیں ہو سکتی
 (صحیح مسلم)
حضور اکرم صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے سڑکوں پر گندگی ڈالنے سے روکا ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے سڑکوں پر سے رکاوٹ کی چھوٹی موٹی چیز کو ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا ہے، سڑکوں پر سایہ دار درخت لگانے کا حکم ہے ابواللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں کہ کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ راستہ پر تھوکے یا ناک صاف کرے، یا کوئی ایسا کام کرے جس سے سڑک پر پیدل چلنے والے کے پاؤں خراب ہوجائیں اسلام کا قانون حق آسائش اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سڑک پر کوئی عمارت بنائی جائے
سڑکوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور راستہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے منع کیا ہے آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے جانوروں تک کے لیے راستہ کی آزادی برقرار رکھی ہے قبل از اسلام مدینہ کی گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ تھا، بیت الخلاء کا اس زمانہ میں رواج نہ تھا لیکن مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگی تو پھر ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا شہر میں پینے کے پانی کی بہم رسائی کا سرکاری طور پر انتظام کیا گیا مدینہ میں پینے کے لیے میٹھے پانی کے کنوئیں اور چشمے بمشکل دستیاب ہوئے۔ حضرت عثمان رضى اللہ عنہ نے جو خود بھی مدینہ کی نو آبادی میں رہتے تھے، آن حضور صلى اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اہلِ مدینہ کے لیے یہودیوں سے میٹھے پانی کا کنواں بئرِ روما خرید کر وقف کردیا۔
(صحیح بخاری باب فضائل )
اسلام جسم و جان کی پاکیزگی اور ظاہر و باطن کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے وضو طہارت غسل کے احکامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے مسجدیں بنا کر وہاں طہارت خانہ تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی اسلام کے عمومی مزاج اور آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان کے بعد گھر گھر غسل خانے بن گئے ہر مسجد کے ساتھ طہارت خانہ تعمیر کیے گئے
 (ابن ماجہ)
ہجرت سے قبل مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے رسول اکرم صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے سختی سے منع فرما دیا گلی یا کوچہ کی کم سے کم چوڑائی جھگڑا ہو جانے کی صورت میں سات ہاتھ ذراع مقرر کی گئی
(صحیح مسلم )
جوفِ مدینہ کی آبادیوں میں گلیاں عام طور پر تنگ ہوتی تھیں اس لیے مدینہ میں بھی کوچہ تنگ مگر سیدھے تھے باوجود یہ کہ آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کا اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مکانات مختصر تھے مگر عام طور پر آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے کشادہ مکانات کو پسند کیا اور فرمایا خوش بخت ہے وہ شخص جس کی جائے رہائش وسیع اور پڑوسی نیک ہوں
 (امام بخاری ۔ باب ادب المفرد)
حفظانِ صحت کا خیال رکھنا اسلامی زندگی کا بنیادی نظریہ ہے صفائی اور پاکیزگی کو اسلام نے نصف ایمان کا درجہ دیا ہے گھر گھر کے باہر کا ہر مقام اپنے جسم اپنے کپڑوں کی پاکی کا حکم بار بار آیا ہے مسجدوں کو پاکیزگی کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے سرکاری عمارتوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بدوی مسجد نبوی کی دیواروں پر تھوک دیتے تو اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اس جگہ کو صاف کرتے تھے وضو اور غسل کا نظام غلاظت سے صفائی کے احکام چوپال کھلیانوں کی جگہ دریاؤں کے کنارے اور تفریح کے مقامات کو پاک صاف رکھنا حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق بھی ہے اور اس میں شائستگی کا اظہار بھی ہے
حفظانِ صحت ہی کے اصول کے تحت بلدیاتی نظام میں کھانے پینے کی چیزوں کے خالص بونے پر زور دیا گیا ہے، ملاوٹ کر نے والوں کے لیے سخت سزائیں اور عذاب کی وعید ہے پینے کے پانی کو صاف رکھنے اور گندے پانی کی نکاسی کے احکام بھی اسی عنوان کے تحت آتے ہیں اسی عنوان سے متعلق بیماریوں کے علاج کی سہولتیں بھی ہیں ان میں وباؤ کے خلاف حفاظتی تدابیر اور ہر وقت ان کے انسداد کی ذمہ داری شہری حکومت پر ہے
سایہ، چمن بندی عوامی تفریح گاہوں کا انتظام بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے
 مثلاً سورۂ عبس میں ارشاد ربانی ہے کہ ہم نے زمین سے اناج اُگایا اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور میوے اور چارا یہ سب کچھ تمہاے اور تمہارے چوپایوں کے لیے بنایا ہے 
(سورۂ عبس آیت : ۳۲۔۲۷)
ہجرت کے وقت مدینہ باغوں کی سر زمین کہلاتا تھا اور یہاں کے لوگ باغات کے بہت شوقین تھے رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے شہر اور مسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ وہاں موجود کھجور کے درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے مسجد النبی صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے دروازہ کے قریب کھجور کے درختوں کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے، جہاں غسل خانہ اور طہارت خانہ بھی تھا اور کنواں بھی اسی جگہ تھا، مسجد النبی صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے بڑے دروازہ کے بالمقابل حضرت ابو طلحہ انصاری رضى اللہ عنہ کا وسیع و شاداب باغ بیرحاء تھا جہاں حضور پاک صلى اللہ علیہ والہ وسلم اکثر تشریف لے جاتے ( صحیح بخاری ، نسائی ، ابن ماجہ )
مدینہ میں نکاسیِ آب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا کیوں کہ شہر اونچی ڈھلوانی جگہ پر تھا، اکثر کہیں سے کوئی پہاڑ ی ندی نالہ گزرتا تھا تو وہاں باندھ کے ذریعہ عمارات اور تعمیرات کو محفوظ بنا دیا گیا تھا
ہجرت کے بعد مدینہ میں خرید و فروخت کی سہولت کے لیے علیحدہ منڈی یا بازار بنا دیا گیا خیال یہ ہے کہ یہ منڈی بنو قینقاع کے اخراج (۳ھء)کے بعد قائم ہوئی ہوگی کیونکہ اس سے پیشتر عبد الرحمن بن عوف رضى اللہ عنہ اوردوسرے تجارت پیشہ مسلمان اپنا کاروبار قینقاع کے بازار میں کرتے تھے
(صحیح مسلم )
مدینے کا بازار مسجد النبی صلى اللہ علیہ والہ وسلم سے کچھ زیادہ فاصلہ پر نہ تھا، بازار خاصہ وسیع و عریض تھا اور آخر عہد نبوی میں نہایت بارونق اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا تجارت کے فروغ کے لیے جناب رسالت مآب صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے زبردست کوششیں کی جن میں سب سے اہم آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان تھا مدینہ کی منڈی میں کوئی خراج نہیں ہے
(فتوح البلدان، بلاذری )
زمانۂ جاہلیت میں خفارہ کا نظام اور قدم قدم پر محصول چنگی کی وجہ سے تجات میں بڑ ی رکاوٹیں تھیں آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے مختلف سیاسی اور عسکری مصالح کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا جو دور رس نتائج کا سبب تھا اور دراصل اس طرح آپ صلى اللہ علیہ والہ وسلم نے چنگی کی لعنت ہی ختم نہ کی بلکہ جزیرة العرب کی تسخیر کے بعد تمام ملک میں، مدینہ کی طرح آزادانہ درآمدات اور برآمدات کی اجازت دے کر بین الاقوامی آزاد تجارت کی داغ بیل ڈالی اور جدید تحقیقات نے اس بات کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کر دیا ہے کہ آزاد بین الاقوامی تجارت نہ صر ف اقوام و ملل کے لیے بلکہ پوری نو عِ بشر کی مادی ترقی کے لیے ضروری ہے جس کے ذریعہ بین الاقوامی طور پر اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھ کر عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے اس طرح اقوام خوشحال بن سکتی ہیں
مدینۃ النبی صلى اللہ علیہ والہ وسلم میں یہ کام اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ والہ وسلم خود انجام دیتے تھے حضور سرورِ کائنات صلى اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ کے بازاروں میں نکلتے تو جگہ جگہ رُک کر ناپ تول کر پیمانہ دیکھتے چیزوں میں ملاوٹ کا پتہ لگاتے عیب دار مال کی چھان بین کرتے گراں فروشی سے رُوکتے استعمال کی چیزوں کی مصنوعی قلت کا انسداد کرتے اس ضمن میں سید نا حضرت عمر رضى اللہ عنہ حضر ت عبیدہ بن رفاعہ رضى اللہ عنہ حضرت ابو سعید خدری رضى اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضى اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضى اللہ عنہ حضرت انس رضى اللہ عنہ حضرت ابو امامہ رضى اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضى اللہ عنہا حضرت علی رضى اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بیان کردہ حدیثیں اصولوں کی تعین کرتی ہیں...

*سیرت النبی:* مولانا شبلی نعمانی
*سیرت المصطفیٰ:* مولانا محمد ادریس کاندہلوی
*الرحیق المختوم اردو:* مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
*تاریخ ابن کثیر* (البدایہ والنھایہ)

*✍🏻📜☜ سلســـلہ جـــاری ہــے......*

*دعـــاؤں کا طلبـــگار*

_*مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کے لیے ھمارا گروپ جواٸن کریں*_
_*☜ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Join لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں*_

_*_
_*📱 +923446544546*_

Written by Tayyab Rajpoot official +923446544546

Tuesday, June 28, 2022

What is Freelancing?

فری لانسنگ کیا ہے؟
یہ فوائد براہ راست لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں ، جو صرف 9 سال سے شام 5 بجے تکلیف دہ ملازمتوں اور غیر دوستانہ ماحول سے صرف سالوں کے لئے ایک مقررہ تنخواہ کی ادائیگی سے تنگ آچکے ہیں۔

پروجیکٹ جمع کروانے کے بعد ہی ایک فری لانس خدمات پیش کرتا ہے جس نے اس میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ فری لانس کسی ایک کلائنٹ کے لئے مستقل طور پر کام نہیں کرتا ہے۔ مزید برآں ، فری لانسرز بالکل ایسے ہی گھریلو مقیم ٹھیکیدار ہیں جو اس منصوبے کو مکمل کرتے ہیں اور جمع کراتے ہیں اور فیس وصول کرتے ہیں۔

فری لانسنگ نے ان لوگوں کے لئے نئے مواقع کھول دیئے ہیں جو کام کرنے کے آرام دہ پرسکون اور لچکدار انداز کی تلاش کرتے ہیں۔ جیسے طلباء ، خواتین بطور واحد ماں یا لڑکیاں جو کالج میں ہیں اور معذور افراد۔ دنیا بھر میں ہر شخص اپنے گھر کے آرام سے پیسہ کمانے کے موقع پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ ، پاکستان حیرت انگیز طور پر آزادانہ منڈیوں کی پہلی فہرست میں شامل ہو گیا ، جس سے ہندوستان ، روس اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ لہذا یہ رپورٹ Payoneer کے نیٹ ورک میں 300،000 پاکستانی فری لانسرز کے نمونے کے ذریعہ لی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ، کہ پاکستانی فری لانسرز زیادہ تر نوجوان بالغ ہیں جو فری لانس مارکیٹ میں اپنا کیریئر شروع کرنے کے منتظر ہیں۔

کیریئر کے طور پر آزادانہ مارکیٹ میں کامیابی کی کہانیاں رکھنے والی کچھ عوامی شخصیات ہیں۔ جو آپ کو فری لانسنگ میں اپنا کیریئر شروع کرنے اور لامحدود نقد رقم حاصل کرنے کیلئے کافی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

آپ کو کہانی کے دونوں اطراف سے آگاہ ہونا چاہئے۔ ایک سیکنڈ کے لئے سوچیں ، آزادانہ حیثیت میں اس کی گنجائش کے باوجود ، کیوں بہت کم لوگ اس کو اعلی عہدے تک پہنچاتے ہیں ٹھیک ہے ، یہاں کیوں ہے۔

سب سے پہلے ، فری لانسنگ میں ایک قدم آگے رکھنا آسان ہے اگر کسی نے اپنی صلاحیتوں یا خدمات میں مہارت حاصل کی ہے جو ان کو مؤکلوں کو پیش کرنا ہے۔ اگر کسی کو واضح اندازہ ہو کہ ان کی صلاحیتیں پوری فری لانس مارکیٹ میں کہاں فٹ بیٹھتی ہیں تو ، وہ ایک فری لانس کی حیثیت سے کام کر سکے گا۔ اگلا مرحلہ ممکنہ اور متعلقہ مؤکلوں کی تلاش ہے۔ پورٹ فولیوز اور ویب سائٹیں بنانا یا “لنکڈ ان” پر پروفائل بنانا اور مہارتوں کو فروغ دینا اور آن لائن دوبارہ شروع کرنا بہت فرق پائے گا۔ ایڈوانس ٹکنالوجی نے نیٹ ورکنگ سائٹوں کو مواد کی تقسیم اور اسے ساتھیوں یا دوستوں کے دائرے میں بانٹنا آسان بنا دیا ہے۔ گاہکوں کو اپنی خدمات حاصل کرنے پر راضی کرنے کا یہ ایک اور طریقہ ہے۔

کیا پاکستان میں فری لانسنگ آپ کے لئے ایک صحیح کیریئر ہے؟
۔ لوگ خود ملازمت ، حد سے کمائی کے امکانی کام کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ درحقیقت ، جن لوگوں نے بطور فری لینسرس آغاز کیا تھا ، وہ اب تک اپنی اپنی کمپنیاں تیار کر چکے ہیں اور ان ممالک سے مقامی فری لانسرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

سمت جانے سے پہلے ، ایک منٹ کا وقت لگائیں اور سوچیں کہ کیا آپ کے لئے فری لانسنگ صحیح آپشن ہے؟ اگر ایسا ہے تو ، آپ فری لانس کے طور پر کیا کرسکتے ہیں؟ آپ کی خدمت کیا ہوگی؟

و دوست انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر تھوڑی بہت گرفت رکھتے ہیں ان کی اکثریت اس کوشش میں رہتی ہے کہ وہ اپنے اس شوق کو آن لائن کمائی کے لئے بھی اپنائیں اور فری لانسنگ وغیرہ سے اپنا جیب خرچ نکالیں۔ جو کہ بلاشبہ ایک بہترین سوچ ہے نہ صرف ان کا جیب خرچ نکلتا ہے بلکہ فری لانسنگ کے کام کو اگر آپ بطور ایک سنجیدہ جاب اپنا سکیں تو اس جیسی مزے دار شاید ہی کوئی جاب موجود ہو گی۔

فری لانسنگ اور آن لائن کمائی کے دوسرے طریقوں میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں آپ کا کوئی باس نہیں یعنی آپ خود مختار ہیں، آپ کا کوئی دفتر نہیں آپ کا گھر، آپ کا بیڈ روم، ٹی وی لاؤنج، اسٹڈی روم یا ڈرائنگ روم ہی آپ کا دفتر ہے، اس جاب میں کوئی دفتری اوقات بھی نہیں جب آپ کا دل چاہے آپ کام کریں اور جب دل چاہے آرام کریں یا اپنے دیگر مشاغل کی طرف دھیان دیں۔

لیکن رکئے۔۔۔۔۔

اگر آپ آن لائن کمانے کا تہیہ کر چکے ہیں تو ابھی اسے شروع کرنے کا مناسب وقت نہیں، جی ہاں پہلے کچھ سیکھ تو لیجئے، چلئے سیکھنا نہیں تو کم ازکم یہ پوسٹ تو پوری پڑھ لیں۔

جی تو جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا کہ آن لائن کمائی کے آپشنز یعنی فری لانسنگ میں آپ کا کوئی باس نہیں کوئی دفتر نہیں کوئی وقت نہیں آپ بالکل آزاد ہیں، یہ بات کچھ حد تک تو درست ہے لیکن جناب اب ایسا بھی نہیں کہ آپ بالکل شتر بے مہار ہیں،

یہاں آپ کا ایک عدد گاہک ہوتا ہے جو آپ کی سروسز پیسے دے کر خریدتا ہے اور ایک مقررہ وقت میں اسے اپنے پیسوں کے عوض کام چاہئے بھی ہوتا ہے۔ جی آپ اسے گاہک کا نام بے شک دے لیں لیکن اتنے وقت کے لئے ہوتا وہ آپ کا باس ہی ہے جتنے وقت کے اس نے پیسے دے رکھے ہیں۔

اور وقت کی قید تو اس میں اس قدر ہے کہ ادھر آپ نے وقت پر کام پورا نہیں کیا ادھر آپ کی شکایت لگ گئی اور آپ نہ صرف پیسوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ آپ کا فری لانسنگ کا منصوبہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ جس کا اعتماد خراب ہو جائے اسے اسی دنیا میں نہیں بلکہ آن لائن کمائی کی دنیا میں بھی کوئی منہ نہیں لگاتا۔

آن لائن کمائی ایک دھوکہ ہے

جی ہاں یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تقریبا ہر اس شخص کو پالا پڑ چکا ہے جس نے آن لائن کمائی کرنے کے لئے آسان ذرائع اپنانے کی کوشش کی۔ آپ نے شاید غور کیا ہو گا کہ میں نے لفظ آسان ذرائع استعمال کیا ہے۔

آن لائن کمائی یا فری لانسنگ ایک دھوکہ

 پر بیان کردہ اکثر واقعات کے مطابق اکثر دوستوں کو شروع شروع میں ایسے ہی لگتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کمائی کرنا نہایت آسان ہے، سونے پر سہاگے کا کام وہ فراڈ ویب سائیٹس کرتی ہیں جو یہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہیں کہ صرف ایڈ پوسٹنگ یا کاپی پیسٹ جیسے کام سے گھر بیٹھے روزانہ 100 ڈالر تک آن لائن کمائی کریں۔

دوستو یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آسان کمائی اور آسان کمائی کے ذرائع میں بہت فرق ہے، آسان کمائی کے ذرائع وہی ہیں جو ہم میں سے اکثر دوستوں کو لوٹ چکے ہیں اور ان کی مہینوں کی محنت پر پانی پھیر کر بھاگ چکے ہیں۔

میرے کہنے کا مطلب وہی ذرائع ہیں جن کو میں اوپر آسان ذرائع کہہ چکا ہوں یعنی ایڈ پوسٹنگ، کاپی پیسٹ وغیرہ کے کام۔ دوستو یہ ویب سائیٹس ہمیشہ فراڈ ہوتی ہیں جن کا نہ کوئی ماضی ہوتا ہے اور نہ مستقبل اور یہ صرف رجسٹریشن کرواتی ہیں اس کی مد میں آپ سے پیسے چارج کرتی ہیں اور پھر آپ کو کام دیتی ہیں، یہ کام اکثر اوقات جعلی نوعیت کے ہوتے ہیں یا پھر یہ اپنے مختلف گاہکوں کے کام آپ سے کرواتے ہیں اور جب آپ ایک اچھی خاصی رقم کما چکے ہوتے ہیں تو ایک دن یہ سائیٹ بند کر دی جاتی ہے اور آپ کی محنت برباد ہو جاتی ہے۔ نیچے موجود تصویر ایسے ہی ایک فراڈ کی ہے ایسے اشتہارات سے دور رہیں۔

اس لئے اپنے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا لیں کہ بغیر کسی مہارت کے ہونے والا کوئی بھی آن لائن کمائی کا کام نہ تو فری لانسنگ ہے اور نہ ہی اصلی ہے۔ ان کاموں پر اپنا وقت اور محنت ضائع کرنے کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔

پھر آن لائن کمائی کیسے کی جائے؟

دوستو آن لائن کمائی یا فری لانسنگ کا سوچنے سے پہلے دو بنیادی شرائط ہیں جن دونوں کا پورا ہونا ہرصورت ضروری ہے اگر ان میں سے ایک شرط بھی پوری نہیں ہوتی تو آپ کا ٹامک ٹوئیاں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں جایئے پہلے یہ شرائط پوری کیجئے اس کے بعد دوبارہ فری لانسنگ شروع کیجئے۔ وہ دونوں شرائط یہ ہیں

انگریزی زبان میں خط و کتاب کی مہارت
جی جناب اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ فری لانسنگ مارکیٹ میں بغیر انگریزی مہارت کے کام چلا لیں گے تو آپ غلط ہیں، آپ کو انگریزی زبان چاہے کم آتی ہو لیکن اگر آپ انگریزی زبان میں خط و کتابت کرنے اور اسے پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں تو یقین کیجئے آپ کو کوئی کام نہیں ملے گا کیونکہ انگریزی زبان ایک انٹرنیشنل زبان ہے اور تقریبا سو فیصد ویب سائیٹس پر یہی زبان کام آتی ہے۔

چاہے اپنے گاہک کو پھانسنا ہو یا اس کی کسی بات کا جواب دینا ہو دونوں صورتوں میں آپ اگر ایک بہترین یا پیغام انگریزی زبان میں نہیں لکھ سکتے تو آپ فیل ہیں، اس لئے سب سے پہلے اس پر مہارت حاصل کریں یہ زیادہ مشکل نہیں ہے اگر آپ کی تعلیم میٹرک ہے تو پھر تو آپ کے لئے بالکل بھی مشکل نہیں تھوڑا سا گرائمر کا تڑکہ اور تھوڑی سی پریکٹس آپ کو ماہر بنا دی گی، بہتر ہو گا کسی استاد یا ادارے کی خدمات حاصل کریں۔

کم از کم کسی ایک شعبے میں مہارت

جی ہاں اگر آپ کو کچھ بھی نہیں آتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں جیسے آپ پہلے ایک بار کسی سائیٹ پر کاپی پیسٹ کا کام کر کے لٹ چکے ہیں فری لانسنگ مارکیٹس بھی آپ کی آن لائن کمائی کے لئے ایسے ہی ذرائع آپ کو فراہم کر دیں گی تو یہ آپ کی بھول ہے۔

کسی بھی فری لانسنگ مارکیٹ میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے آپ کم از کم کسی ایک شعبے میں ماہر ہوں، یہ شعبہ عام شعبہ ہائے زندگی میں سے ہی ایک ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ کو کسی بھی شعبے میں مکمل مہارت نہیں ہے تو پہلے آپ کسی بھی ایک شعبہ جو آپ کو اچھا لگتا ہے جس میں آپ کو کام کرنے کا مزہ آتا ہے یا جو آپ کو آسان لگتا ہے اسے باقاعدہ کسی سے سیکھیں۔

ویسے تو کوئی بھی مہارت آج کل یوٹیوب سے بھی سیکھی جا سکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ کسی استاد کی زیرِنگرانی کسی ادارے سے سیکھیں تاکہ جب امتحان لیا جائے تو آپ کو پتہ چل سکے کہ آپ کتنی مہارت حاصل کر چکے ہیں اور کتنا سیکھنا ابھی باقی ہے۔

یاد رہے کام چلاؤ قسم کی مہارت فری لانسنگ میں ہرگز کام نہیں آتی کیونکہ وہاں آن لائن کمائی کے خواہشمند حضرات دنیا بھر کے منجھے ہوئے ماہر ہوتے ہیں اور آپ نے بولی میں ان سے کام تقریبا چھیننا ہوتا ہےاور یہ تبھی ہو پائے گا جب آپ ان سے زیادہ یا کم ازکم ان جیسی مہارت رکھتے ہوں گے۔

جی دوستو یہ تو تھیں وہ دو شرائط جن پر آپ کا پورا اترنا ہرصورت ضروری ہے اور اگر آپ کسی ایک میں بھی کمی سمجھتے ہیں تو فورا پہلے اسے سیکھیں اس کے بعد فری لانسنگ مارکیٹ کا رخ کریں ورنہ جب تک آپ سیکھیں گے اپنی پروفائل کو اتنا خراب کر بیٹھیں گے کہ کوئی آپ پر بھروسہ ہی نہیں کرے گا یعنی آپ کا مستقبل فری لانسنگ سے آن لائن کمائی کے حوالے سے تاریک ہو چکا ہو گا۔

فری لانسنگ مارکیٹ میں کونسا کام آسان ہے؟
 

آن لائن کمائی کے لئے سب سے آسان کام تو وہی ہے جو آپ کو آتا ہے اور آپ کو اس کام کا کرنا پسند ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کام میں فی الحال مہارت نہیں رکھتے ہیں اور سیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے موجود چند کام ایسے ہیں جو سیکھنا بھی آسان ہے اور کرنا بھی آسان ہے۔

آپ مختلف زبانوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کر سکتے ہیں جو اگر آپ کو دونوں زبانی اچھی طرح آتی ہیں تو نہایت آسان کام ہے۔

گرافکس ڈائزین Graphic Design
فیس بک ہو یا انسٹا گرام ، سافٹ وئیر یا ویب سائیٹ ہو یا آن لائن، آف لائن بزنس ہو یا ایک ریڑھی والا سب کو اپنے کام میں ہمہ وقت گرافکس کے کام کی ضرورت پڑتی ہے، چاہے فیس بک پر تصویر اپلوڈ کرنی ہو یا ایک ریڑھی پر چنا چاٹ کا بینر آویزاں کرنا ہو ہمیشہ کسی بھی گرافکس ڈائزئنیر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ بلاشبہ گرافکس ڈائزین ایسا شعبہ ہے جس کی فری لانسنگ مارکیٹ میں سب سے زیادہ جگہ ہے۔ اگر آپ کچھ نیا سیکھنا ہی چاہتے ہیں تو میرا مشورہ ہو گا کہ آپ اس شعبے میں قسمت آزمائی کریں۔ اس کے آگے بے شمار ذیلی شعبہ جات ہیں لیکن اگر آپ نے بنیادی کام سیکھ لیا تو باقی کام گھر بیٹھے یوٹیوب سے ہی سیکھے جا سکتے ہیں۔

Website Building ویب سائیٹ بنانا
نہ صرف تمام کاروبار بلکہ انفرادی طور پر بھی لوگ اپنی آن لائن شناخت برقرار رکھنے کے لئے ویب سائیٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اگر آپ کو ویب سائیٹ بنانا آتی ہے تو پھر آپ کے لئے آن لائن کمائی کے مواقع ہی مواقع ہیں۔

بلاگ لکھنا Blog Writing
اپنی شخصیت، کاروبار، پروڈکٹس یا ویب سائیٹ کے بارے میں لکھنا تاکہ لوگ اسے پسند کریں لوگوں کو آپ کے بارے میں علم ہو سکے اور لوگ اس طرف متوجہ ہو سکیں ایک عام کام ہے، لیکن بہت سارے لوگ خود سے اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ الفاظ کا اچھا چناؤ کرتے ہوئے کچھ لکھ سکیں۔ اس کام کے لئے انہیں کوئی ایسا شخص چاہئے ہوتا ہے جو ان کے لئے یہ خدمات فراہم کر سکے۔

اگر آپ اچھا لکھ سکتے ہیں تو پھر اس شعبے میں داخل ہو جائیں نہ صرف آپ لوگوں کے بارے میں لکھ سکتے ہیں بلکہ بہت سارے لوگ یا یوں کہیں کہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی تحاریر لکھنے کے لئے ایک ایسا بندہ چاہئے ہوتا ہے جو پیسے لے اور تحریر لکھ دے اور وہ اپنے نام سے وہ تحریر اپنی ویب سائیٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھ کر واہ واہ حاصل کرسکیں۔ ایسے رائیٹر کو گھوسٹ رائیٹر Ghostwriter کہا جاتا ہے اور اس کا بہت سارا کام انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

آن لائن پڑھانا Online Teaching
جی جناب اگر آپ پڑھے لکھے ہیں اور آپ میں ایک اچھے استاد والی خصوصیات موجود ہیں تو پھر آپ کو آن لائن کمائی سے کوئی نہیں روک سکتا، بہت سارے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں آپ لوگوں کو آن لائن پڑھا سکتے ہیں اور فیس وصول کرسکتے ہیں۔

فوٹوگرافی Photography
اگر آپ کو کھومنے پھرنے کا شوق ہے اور آپ ایک اچھا کیمرہ بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کو فوٹو گرافی بھی آتی ہے یا آپ سیکھ سکتے ہیں تو جناب مزے سے گھومئے لیکن اپنا کیمرہ ساتھ لے جائیں جو منظر پیارا لگے اس کی اچھی سی تصویر اتاریئے اور آن لائن بیچئے، بہت سارے ادارے موجود ہیں جو آپ کی تصاویر خریدتے ہیں اس کے علاوہ فری لانسنگ مارکیٹ میں بہت سارے ایسے گاہک ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں جو کوئی خاص قسم کی فوٹو گرافی یا ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں اور اس کام کے لئے آپ کو پیسے دیتے ہیں۔

وکی پیڈیا آرٹیکلز لکھنا Wikipedia Contributor
کیا آپ نے پہلے کبھی وکی پیڈیا پر کوئی مضمون لکھا ہے؟ نہیں لکھا تو اب لکھنا شروع کر دیں تاکہ آپ کو مہارت حاصل ہو سکے، وکی پیڈیا پر مضمون لکھنا تھوڑا سا ٹیکنکل ہے لیکن دو چار مضمون لکھ کر ہی آپ ماہر ہو جاتے ہیں، تو جناب بہت دنیا موجود ہے جو وکی پیڈیا پر اپنے، اپنے کاروبار یا پروڈکٹ کے بارے میں لکھنے کے لئے آپ کی خدمات حاصل کرنے کے لئے فری لانسنگ مارکیٹ میں تیار بیٹھی ہے۔

پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ Proof Reading / Editing

اگرآپ کسی زبان خصوصا انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں تو آن لائن کمائی کے لئے پروف ریڈنگ اور کاپی ایڈیٹنگ کا بہت کام موجود ہے، لیکن یاد رہے اس کے لئے زبان پر بہت زیادہ گرفت ہونا ضروری ہے۔

کاپی رائٹنگ Copywriting
وہی زبان پر عبور والی بات، اگر آپ کو زبان اچھی طرح آتی ہے اور آپ لکھ سکتے ہیں تو کاپی رائیٹنگ کا کام بہترین ہے کسی گاہک کی پراڈکٹ کی تفصیلات سے لے کر کسی بھی چیز کے بارے میں مکمل معلومات کو ایسے لکھیں کہ پڑھنے والا ایک بار اس کو دیکھے ضرور، بس یہی ہے کاپی رائیٹر کا کام جس کا بہت سارا کام آن لائن دستیاب ہے۔

سی وی لکھنا Resume Writing
جی ہاں وہی سی وی جسے اٹھائے اٹھائے آپ نوکری کی تلاش میں خوار ہو رہے ہیں، بہت دنیا ہے جسے یہ بھی لکھنا نہیں آتی۔ سی وی لکھنے یعنی Resume Writing کا کام اب ایک نئی جہت اختیار کر چکا ہے اور نت نئے ڈائزین میں سی وی لکھی جاتی ہے جس میں مکمل معلومات کے احاطے کے ساتھ ساتھ گرافکس کا ایسا شاندار استعمال ہو رہا ہے کہ کوئی بھی اسے پڑھے بغیر رہ نہ سکے۔ بس ایسی ہی سی وی آپ بھی لکھنا اور بنانا سیکھ لیں اور ڈھیروں روپے آپ کے منتظر ہوں گے۔

ڈبنگ یا وائس اوور Dubbing and Voice Over
اگر اللہ پاک نے آپ کو اچھی اور صاف آواز دے رکھی ہے اور آپ کو زبان پر بھی مہارت ہے تو آپ لوگوں کے لئے ڈبنگ یا وائس اوور کا کام بھی کر سکتے ہیں، یعنی اگر کسی ویڈیو کا انگریزی سے اردو ترجمہ ہو رہا ہے یا کسی ایک زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ ہو رہا ہے تو انہیں یقینا ایسے بولنے والے چاہئے ہوتے ہیں جو روانی سے اور بہترین طریقے سے ان کے لکھے ہوئے سکرپٹ کو پڑھ سکیں۔ جیسا کہ اکثر دوستوں نے انگریزی سے اردو میں ڈبنگ کی گئی فلمیں دیکھی ہوں گی۔

اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کمرشلز تو دیکھے ہی ہوں گے، ان کمرشلز میں بیک گراؤنڈ میں جو صاحب یہ صاحبہ اس کے بارے میں معلومات دے رہے ہوتے ہیں لیکن خود اسکرین پر کبھی نہیں آتے ہیں ان کا کام صرف وائس اوور دینا ہوتا ہے، یہ پسِ پردہ آواز آپ کی بھی ہو سکتی ہے اور انٹرنیٹ پر فری لانسنگ مارکیٹس میں اس کا اتنا کام موجود ہے کہ آپ کام کر کر کے تھک جائیں کام ختم ہونے کا نام نہ لے۔

ورچوئل اسسٹنٹ Virtual Assistant
کاروبار اور کاروباری حضرات کو اپنے روزمرہ کام نمٹانے کے لئے کوئی نہ کوئی اسسٹنٹ درکار ہوتا ہے جو ان کی طرف آنے والی ای میلز کا جواب دے سکے، ان کی ٹیلیفون کالز لے سکے یا ان کی ملاقاتوں کے اوقات طے کر کے کلائینٹس کو بتا سکے۔ پہلے زمانوں میں یہ کام دفاتر میں موجود لوگ کرتے تھےلیکن اب زمانہ بدل چکا ہے یہ سارے کام ورچوئل اسسٹنٹ کرتے ہیں، یعنی آپ امریکہ کی ایک کمپنی کی ای میلز کا جواب اپنے گھر پاکستان میں بیٹھے دے رہے ہوتے ہیں اور ان کا کلائنٹ سمجھتا ہے کہ کمپنی بہت اچھی ہے فورا جواب دیتی ہے اس کا کمپنی کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہی کام جو ایک دفتر کے ملازم نے 4000 ڈالر میں کرنا ہے آن لائن لوگ ان کا یہی کام 500 یا 1000 ڈالر میں باآسانی کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ بھی اس فیلڈ میں قسمت آزمائی کریں لیکن شرط وہی انگریزی میں مہارت والی۔

 

Written by 
Tayyab Rajpoot official

Business of Multani Mitti

ملتانی مٹی سے کاروبار
ملتانی مٹی کا بہترین منافع والا بزنس

ملتانی مٹی کا بہترین منافع والا بزنس
آئیں اس بزنس کے راز کھولتے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ آپ 50

سے 60 ہزار لگا کر دس لاکھ روپے تک کیسے کما سکتے ہیں۔
ایک بات اہم ہے کہ 50 سے 60 ہزار روپے انویسمنٹ سےاس کاروبار میں

منافع دس لاکھ روپے ضرور ہے۔ اب یہ آپ کی مارکیٹنگ پر ڈیپنڈ کرتا ہے

کہ آپ کس قدر تیزی سے یہ ٹارگٹ پورا کر لیتے ہیں۔
اس قدرمنافع تو بلب والے بزنس میں بھی نہیں تھا۔ اب آپ ڈبل مائنڈڈ نہ ہو

جائے گا کہ بلب والا بزنس شروع کریں یا ملتانی مٹی والا تو میرا مشورہ

ہے کہ ملتانی مٹی والا اور بلب والا دونوں بھی آپ شروع کر سکتے ہیں۔

کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ کا بلب والا سیلز مین ملتانی مٹی کے پیکٹ بھی

لے جا سکتا ہے اور ملتانی مٹی والا سیلز مین بلب بھی لے جا سکتا ہے

اسی حساب سے وہ اپنا کمیشن بھی کمائے گا۔
آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ملتانی مٹی کے بزنس میں 50 سے 60 ہزار روپے

انویسٹ کرنے سے کم سے کم آپ 8 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 12لاکھ کیسے کما سکتے ہیں۔

یہ منافع آپ پندرہ دن میں بھی کما سکتے ہیں اور چھ ماہ میں بھی کما سکتے ہیں۔

یہ مکمل طور پر آپ پر منحصر ہے۔ اور چھ ماہ میں تو ہر انسان

کما سکتا ہے۔ اگر آپ تیز ہیں تو ایک ماہ میں کما سکتے ہیںَ

ملتانی مٹی کی قیمت:
ملتانی مٹی چہرے کو صاف کرنے کے لیے خواتین استعمال کرتی ہیں۔
بلیک ہیڈز وغیرہ ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اور کافی ابٹن

وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے اور مارکیٹ میں اس کا بہت ڈیمانڈ ہے۔
ملتانی مٹی کی قیمت صرف 50 روپے فی کلو ہے!
حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے پیارے پاکستان میں بے شمار بزنس کے

مواقع ہیں مگر معلومات کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کون سا بزنس کریں۔
اچھا اس کی قیمت پچاس روپے کلو ہے تو مارکیٹ میں کیسے فروخت ہوتی ہے؟
جناب آپ پچاس روپے کلو لے کر 30 روپے کی پچیس گرام سیل کریں گے۔
اسی میں آپ کے ڈبیا اور پیکٹ بنانے کے اخراجات ہیں۔
یہ آپ کو کھلی ملے گی اور اس کو پیسنے کے لیے ایک گرائنڈر مشین ملتی ہے 10

سے 15 ہزار میں جس میں اس کو پیس کر باریک کیا جائے گا۔
25 گرام وزن کے حساب سے ایک کلو مٹی کے 40 پیکٹ بنیں گے۔
30 روپے کا ایک پیکٹ سیل ہو گا۔ 40 ضرب 30 جواب آتا ہے 1200 روپے۔
ہے نا حیران کن بزنس کہ آپ 50 روپے لگا کر 1200 روپے کما رہے ہیں۔
اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے اگر آپ نے جو سیلز مین رکھا ہو گا تو اس کو

اگر 1200 روپے فی دن تنخواہ پر بھی رکھا ہو گا تب بھی آپ کو مسلہ نہیں ہے ۔

(ایک کلو مٹی کی قیمت ہی سہی )آپ جو ڈبی پرنٹ کروائیں گے وہ 2 سے 3 روپے
میں بہتریں ڈبی اور پیکٹ بن جائے گا۔ یعنی مکمل پیکنگ پر 2 سے تین روپے خرچ ہوں گے۔
آپ نے پوری ایک گاڑی مٹی کی منگوانی ہے۔
1000 کلو گرام مٹی منگوائیں۔
50000 روپے کی آیے گی۔
جس کا 4000 پیکٹ بنے گا۔ اب یہ 4000 پیکٹ 30 روپے کے حساب سے 12 لاکھ روپے کا سیل ہو گا۔
اب دیکھیں کون سا ایسا بزنس ہے جس میں آپ کو ایسا پرافٹ ہو۔
10 سے 12 ہزار روپے میں اس کے پیکٹس بن جائیں گے۔
مگر سارے آپ نے کون سا ایک ہی دن بنانے ہیں۔
سب سے پہلے آپ مٹی لائیں۔ اور اس کے بعد پیکٹ بنوائیں اور مارکیٹ

میں پہلے سے چلتے ہوئے سیلز مینز کے ساتھ رابطہ کر لیں۔ یا اپنی الگ

تنخواہ پر مارکیٹنگ والے سیلز مین رکھ لیں اس میں سب سے زیادہ فائدہ ہے۔ آپ کی ایک الگ پہچان ہو گی۔

ملتانی مٹی آپ کو ملتان سے ملے گی۔

written by:
Tayyab Rajpoot official

Monday, June 27, 2022

Business of Soap

 صابن کا کاروبار

آج کے وقت میں زیادہ تر لوگ نوکری کی جگہ خود کے کاروبار پر توجہ دے رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت بھی کئی ایسی اسکیمیں شروع کرچکی ہیں ، جس کی مدد سے خود کا کاروبار شروع کیا جاسکتا ہے ۔ اگر آپ ک پاس آئیڈیا ہے اور کم سرمایہ کاری میں خود کا بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کی کئی اسکیمیں آپ کی مدد کرسکتی ہیں ۔ آج ہم آپ کو سرکار کی انہیں اسکیموں کی مدد سے کم لاگت میں خود کا کاروبار شروع کرنے اور موٹی کمائی کرنے کیلئے ایک بزنس کے بارے میں بتا رہے ہیں ۔


 


انتہائی کم لاگت میں آپ چاہیں تو صابن بنانے کی فیکٹری قائم کرسکتے ہیں ۔ آج کے وقت میں صابن کی ڈیمانڈ چھوٹے شہروں سے لے کر بڑے شہروں ، قصبوں اور گاوں میں کافی ہے ۔ ایسے میں صابن بنانے کا کاروبار آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ۔ صابن بنانے کیلئے فیکٹری کی شروعات چار لاکھ روپے سے بھی کم میں کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کاروبار کو شروع کرنے کیلئے 80 فیصدی لون بھی مل سکتا ہے ۔


 


مرکزی حکومت کے مدرا یوجنا کے تحت نہ صرف لون ملنا آسان ہے ، بلکہ پورے بزنس کا پروجیکٹ بھی تیار کیا جاسکتا ہے ۔ کل سات مہینے میں آپ اس کی کارروائی پوری کرکے پروڈکشن شروع کرسکتے ہیں ۔ مدرا اسکیم کی پروجیکٹ پروفائل رپورٹ کے مطابق آپ ایک سال میں تقریبا چار لاکھ کلو کا کل پروڈکشن کرسکیں گے ۔ اس کی کل ویلیو تقریبا 47 لاکھ روپے ہوگی ۔




اخراجات اور دیگر بقایہ جات کی ادائیگی کے بعد آپ کو ہر سال تقریبا چھ لاکھ روپے کا منافع ہوگا ۔ اس حساب سے تقریبا 50 ہزار روپے ماہانہ کی آپ کمائی کرسکتے ہیں ۔ اس یونٹ کو لگانے کیلئے آپ کو کل 750 اسکوائر فٹ زمین کی ضرورت پڑے گی ، جس میں سے 500 اسکوائر فٹ کوورڈ اور باقی کا ایریا ان کوورڈ ہوگا ۔ اس میں مشینوں سمیت کل 8 آلات نصب ہوں گے ۔ مشینوں اور انہیں لگانے کی کل لاگت صرف ایک لاکھ روپے ہوگی ۔


اس پورے سیٹ اپ کو لگانے کیلئے مجموعی طور پر 15 لاکھ 30 ہزار روپے کا خرچ آئے گا ، جس میں جگہ ، مشینری ، تین ماہ کی ورکنگ کیپٹل شامل ہے ۔ اس میں آپ کو صرف تین لاکھ 83 ہزار روپے خرچ کرنے ہوں گے ، کیونکہ باقی کا لون آپ کو بینک سے مل سکتا ہے ۔ اس کاروبار کو شروع کرنے کیلئے لون آپ کو کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ بینک سے مل جائے گا۔

Monday, June 13, 2022

Prize Bond Business

 پرائز بانڈ سے بزنس کرنے کا طریقہ


پرائز بانڈ جلد امیر ہونے کا واحد قانونی راستہ ہے۔


پرائز بانڈ پر مسلسل انعامی رقم جیتنا کوئی بہت مشکل کام نہیں یا کوئی ایسی سائنس نہیں کہ آپ کے لئے سمجھنا مشکل ہو۔


پرائز بانڈ ایک کھیل ہے اور کھیل بھی ایسا جس میں گھاٹا نہیں ہوتا کیونکہ آپ جب چاہئیں اس کو واپس کر کہ اپنے پیسے لے سکتے ہیں۔


اس کھیل کو سمجھنے والے ہر ماہ ہی انعامی رقم حاصل کر لیتے ہیں۔


مگر لوگ اپنے بزنس کا کوئی بھی طریقہ اتنی آسانی سے شئیر نہیں کرتے۔


پرائز بانڈ کے کام کو کرنے کے بھی مختلف حساب و کتاب ہیں اور راز ہیں جن میں سے ایک انتہائی اہم اور بنیادی طریقہ آج ہم آپ کے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔

بہت لوگ ہیں جو اس طریقے پر عمل کر کہ اپنی باقی پراپرٹی سیل کر کہ اسی بزنس میں لگا دیا ہے۔


پاکستان میں پرائز بانڈ کے دو سائیکل ہوتے ہیں۔۔ سائیکل یعنی چکر


ایک چھوٹا سائیکل اور


دونوں سائیکل کا عرصہ تین ماہ پر محیط ہوتا ہے۔


چھوٹے سائیکل میں سو ۔ دو سو اور 750 کے پرائز بانڈ ہوتے ہیں؟


پہلے مہینے سو دوسرے مہینے 200 اور تیسرے مہینے 750روپے والے پرائز بانڈ نکلتے ہیں۔


چوتھے مہینے پھر سو والے بانڈ کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اور یہ چکر ایسے ہی رواں دواں رہتا ہے۔


دوسرے سائیکل کا آغاز پندرہ سو والے بانڈ سے ہوتا ہے۔


اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا یہ بھی تین ماہ کا چکر ہوتا ہے۔


یہ دونوں چکر یعنی چھوٹا چکر اور بڑا چکر ایک ساتھ چلتے ہیں۔


یعنی جس ماہ سو والے بانڈ کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اسی مہینے میں پندرہ سو والے بانڈ کی قراندازی ہوتی ہے۔


بڑا سائیکل مہینے کے شروع میں اور چھوٹا سائیکل مہینے درمیان میں چلتا ہے۔


پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کی ایک ترتیب ہے۔


جیسے کہ اگر آپ نے سو روپے والا ایک پرائز بانڈ لیا ہوا یے تواگر اپ کی قسمت ہوئی کبھی اس میں انعام نکل آئے۔



اچھا تو انعام کیسے حاصل کیا جائے۔



مثال کے طور پر میں اگر اس کھیل کا حصہ ہوں تو قرعہ اندازی سے چار دن قبل ایک سو والے بانڈ کی پوری ترتیب سے ایک سیریل خرید کر رکھ لوں گا۔


یعنی ایک سے لیکر سو تک پوری ایک ترتیب والے نمبرز کے پرائز بانڈ خرید لوں گا۔


اور اس میں بہت زیادہ چانس بن جاتا ہے کہ میرا انعام نکل آئے گا۔


اگر میں ایک ہزار بانڈز خرید لیتا ہوں ایک ہی ترتیب والے نمبرز کے ساتھ تو ان میں سے ایک انعام تو سو فیصد نکلے گا ہی نکلے گا مگر اس سے زیادہ دو چار۔ دس بیس بھی ہو سکتے ہیں۔


 


قرعہ اندازی کےکچھ دن بعد یہ بانڈز بینک کو واپس کئیے جا سکتے ہیں۔


اسی طرح آپ اگلی قرعہ اندازی پر نظر رکھیں اور ایسا ہی کریں۔



یہ ایک مکمل کھیل ہے اور اس میں وہ لوگ ضرور کامیاب ہوتے ہیں جو اس میں سرمائے کے ساتھ اس کو سمجھ کر اس میں پیسہ لگاتے ہیں۔



اگر زیادہ سرمایہ ہے تو دونوں سائیکلز میں انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں اور اسی طریقے سے کریں تو ہر ماہ ایک چھوٹا اور ایک بڑا انعام آپ کا ضرور نکل سکتا ہے۔



اگر آپ اس کو مذید سمجھنا چاہتے ہیں تو کسی بھی پرائز بانڈ کی ڈرا لسٹ کا بغور جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے ایک خاص ترتیب کے بعد ایک انعام لازمی ہو گا۔ بس اسی کو سمجھئیے اور ترتیب میں نمبرز لے کر انویسٹ کیجئیے۔



اس میں کوئی ایسی پیچیدگی نہیں ہوگی کہ آپ کو سمجھ نہ آئے۔


اور ہاں آپ کے پاس گھر میں بھی پیسے ہوتے ہیں یا بینک ہوتے ہیں۔ ذہین لوگ تو وہی ہیں جو اپنے پیسوں سے کسی بھی کاروبار میں انویسٹ کرتے ہیں۔


اور یہ پرائز بانڈز کا کام انتہائی سیف ہے۔


تو پیسے بینک میں ایسے ہی رکھنے کے بجائے ان سے بانڈز لیں۔ اپنے پاس پیسے رکھنے کے بجائے بانڈ لیں۔ چاہئے کم ہیں یا زیادہ آپ پیسے کو فالتو میں بیکار مت رکھ چھوڑیں۔


کسی نا کسی کام میں لگائیں۔ اس سے آپ کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔


 

Tent ⛺ services business idea

ٹینٹ سروس کا بزنس

آئیے دوستو یہ جانتے ہیں کہ دو ہزار روپے سے ہم اپنا ٹینٹ سروس کا بزنس کیسے کر سکتے ہیں۔


دوہزار میں سےایک ہزارروپیہ لیناہے اور چلےجانا ہے ایک پرنٹنگ اور ڈیزائنگ شاپ پر۔


اور اسے کہنا ہے کہ پانچ سو کی تعدادمیں پیپر پرنٹ کر دو جس پر کچھ اس طرح کی تحریر لگائیں۔


شادی بیاہ اور دیگر ہر قسم کی تقریبات کے لیے بہترین نیا کیٹرنگ کا اور ٹینٹ سروس کا سامان دستیاب ہے۔


انتہائی مناسب کرایہ پر آپ سامان لگوا سکتے ہیں۔

بہترین اعلی معیار کی سروس۔

جدید تقاضوں کے عین مطابق سروس۔


آپ یقینا ہماری سروس سے بہت خوش ہوں گے۔

ابھی کال ملائیں اور اپنا آرڈرنوٹ کروائیں۔


تقریب چھوٹی ہو یا بڑی ہماری سروس کو ضرور کال کریں۔

نیچے اپنا نام اور فون نمبر لکھ دیں۔


اب یہ پانچ سو پیپرز آپ نے پورے شہر میں مختلف گلیوں میں لگا دینے ہیں۔


پانچ سو پیپرز پانچ سو کے بن جائیں گے باقی پانچ سو کہ آپ نے ایک ہزار کارڈز بنوا لینے ہیں۔


وزیٹنگ کارڈز جن پر کم وبیش یہی تحریر لکھی ہو۔ جو آپ نے اپنے کلائنٹس کو دینے ہیں۔


اب یہ چیزیں بننے کے بعد آپ کے پاس ایک ہزار باقی بچا ہوا ہے۔


جناب گھبرائیں مت۔ اشتہار لگانے سے ایک یا دو دن پہلے آپ نے ایک ڈائری لینی ہے اور چلے جانا ہے شہر کے کسی بھی اچھے ٹینٹ سروس والے کے پاس۔


اب جو ٹیکنیک میں آپ سے شئیر کرنے جا رہا ہوں وہ ٹینٹ سروس والے خود بھی بعض اوقات استعمال کرتے ہیں۔


اور ان کی یہی ٹیکنیک آپ نے استعمال کرنی ہے اور اپنا کامیاب بزنس کرنا ہے۔


اچھا تو ٹینٹ سروس والے کے پاس آپ نے جانا ہے اور اس سےکہنا ہے کہ اپنے ریٹس دے دو ہر ایک چیز کے ریٹس


آپ نے ڈائری پر لکھ لینے ہیں

اب اسےکہیں کہ اگرمیں مستقل آپ کا کلائنٹ بن جاوں تو آپ مجھے کیا ڈسکاونٹ دو گے۔


اسے آپ کھل کر بتائیں کہ آپ کے پاس گاہک ہیں اورآپ اس کاسامان استعمال کرنا چاہتے ہیں۔


اب ہو گا یہ کہ وہ عام گاہک کی بہ نسبت آپ کو بیس پرسنٹ کم ریٹ لگائے گا۔ اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں مگر ہم فی الحال بیس پرسنٹ پرافٹ ہی ذہن میں رکھتے ہیں۔


یہاں آپ کی ڈیل اس کے ساتھ ڈن ہو گئی۔ اس تحریر کو اسی دلچسپی کے ساتھ پڑھیں میں آپکو بتاوں گا کہ اس بزنس کو آپ کیا نام دے سکتے ہیں اور آپ کو عہدہ کیا ہو گا۔


اب اس بندے سے جو ریٹس لیے ہیں وہ اپ نے ڈائری پر چیزوں کے نام کے سامنے نوٹ کر لیے اب ان ریٹس کے سامنے ہیں وہ ریٹس لکھ لیں جو وہ بندہ اپ کو صرف اپ کے لیے دے رہا ہے۔


اب ایسی ہی ڈیل ایک اور اچھے ٹینٹ سروس والے سے کریں اور


اس سے بات کریں اور اسکے ساتھ بھی ایسی ڈیل کر لیں اور ہاں ان کے فون نمبرز وغیرہ لے کر ڈائری میں لکھ لیں۔


اب آپ نے وہ تمام پوسٹر شہر کی گلیوں میں لگا دینے ہیں۔

اور کارڈز اپنے ملنے والوں کو دینے ہیں۔


اب دیکھیں کہ جب بھی آپکو کال آئے گی آپ نے کلانٹ سے پوچھتے جانا ہے کہ آپ کو کیا کیاچاہیے۔

جوجو کلائنٹ بتائیے آپ نے نوٹ کرتے جانا ہے اور پھر کیلکولیٹ کر کہ اس کو مکمل اخراجات بتا دینے ہیں۔


آپ نے اس کو وہ ریٹ لگانا ہے جو ٹینٹ سروس والے نے عام کلائنٹ کے لیے دیا ہے۔


اگر اپ کو گاہک بیس ہزار کے کرایے کا بھی آرڈر دیتا ہے تو بیٹھے بٹھائےآپ کو 4000 روپیہ بچ گیا۔


اب اندازہ کریں بعض شادیوں کا کٹرنگ وغیرہ کے سامان کا مکمل کرایا پچاس ہزار بھی ہو جاتا ہے۔


آپ زرا واپس آئیں اور اتنا اونچانہ سوچیں بس دن کے ایک دو چھوٹے چھوٹے آرڈر ہی بک کر لیں تو آپ کو چالیس سے پچاس ہزارروپے ماہانہ بیٹھے بٹھائےبچت ہونا شروع ہو جائے گی۔


کرنا آپ نے کیا ہے بلکہ کرنا کچھ بھی نہیں صرف آپ کو فون آئے گا اور آپ نے آرڈرلے کر آرڈر آگے نوٹ کروا دینا ہے۔


سامان لگانے والے لگا لیں گے اور واپس بھی لے جائیں گے آپ نے بس پیسے پکڑنے ہیں اپنا پرافٹ کاٹ کر باقی مالک کے حوالے کرنے ہیں۔


اچھا اس کام میں یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ ایسے بھی آرڈر دیتے ہیں کہ جناب تین سو لوگوں کو کھانا اور ٹینٹ سروس کا سامان مکمل یعنی تین سو لوگوں کو اپ نے مینیج کرنا ہے۔


اس سلسلے میں پہلے اپ کو ریٹ پتہ ہونا چاہیے کہ پچاس لوگوں کے سیٹ اپ کا کیا ریٹ ہے سو کا کیا ریٹ ہے دو سو لوگوں کا کیا ریٹ ہے۔


کیا یہ مشکل کام ہے ؟۔ پچاس ساٹھ ہزار ماہانہ بچت اور کرنا کچھ بھی نہیں۔


اب اس کو دوسری نظر سے دیکھتے ہیں آپ کے پاس جاب نہیں ہے آپ ٹینٹ سروس والے کے پاس جاب کی تلاش میں جاتے ہیں وہ آپ کو کہتا ہے ہم جاب دیں گے آپ بس فون پر آرڈر نوٹ کرنے کا کام کریں۔


اور دس ہزار ماہانہ آپ کو تنخواہ ملے گی۔


تب تو آپ شاید خوشی سے یہ کام کر لیں گے۔ اس کے دفتر پر 8سے 10گھنٹے ڈیوٹی بھی دیں گے اور تنخواہ؟؟؟ 10 یا 15 ہزار روپے۔


اب یہی کام آپ آزادی سے کریں اپنے طور پر کریں اور جیسے بتایا ہے ویسے اشتہار لگا کر کریں تو پھر دیکھیں دو تین مہینے کہ اندر ہی آپ کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔


اس کے بعد کیبل پر اشتہار چلائیں تو اپ کو اپنا بزنس مینج کرنے کے لیے آگے بندے تنخواہ پر چاہیے ہوں گے۔


یا آج کل انتہائی کاروآمد سوشل میڈیا اشتہارات ہیں جو آپ خود نہیں جانتے تو ابھی میری خدمات لے سکتے ہیں۔ اپنے پیج اور اس گروپ سرکل کے لوگوں کے لیے میں انتہائی مناسب قیمت رکھتا ہوں اور ہزاروں کی ٹپس اور وہ راز بھی مفت بتادیتا ہوں جو سالوں کے تجربات کے بات حاصل ہوتی ہے۔ اور کام ختم ہونے پر مستقل مفت رہنمائی الگ ...


اچھا اس بزنس کو پارٹی ارینج سروس یا پارٹی مینجمنٹ سروس کا نام دے سکتے ہیں۔


اور آپکا عہدہ ہو گا پارٹیز مینجر کا یا پارٹیز آرگنائزر کا۔


دنیا میں کئی بڑے بڑے آئیڈیاز کو بیوقوفانہ آئیڈیاز کہا گیا ہے مگر ان پر عمل کرنے والوں نے ثابت کیا اوردنیا نے تسلیم کیا کہ وہ لاکھوں کروڑوں بلکہ کھربوں کے آئیڈیاز تھے چاہیے وہ کسی چیز کی ایجاد سےمتعلق تھے یا کسی نیو بزنس کے۔


آپ بے روزگار ہیں اور آپ کے پاس کم از کم دو ہزار روپیہ موجود ہے تو اٹھیں ایک نئے عزم کے ساتھ اور اس آئیڈیا ہر عمل کر ڈالیں۔


  

Popular Post of the Month

گھنول ویلی - سیاحت، ثقافت About Ghanool Valley اور مسائل

وادی گھنول کے بارے میں مکمل تحریر  گھنول وادی پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں ایک شاندار اور  لحاظ سے اہم وادی ہے جو مربوط ترقیاتی منصوبوں کے ذر...